ماہ رجب کی فضیلت

ماہ رجب کی فضیلت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن

اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم 

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ

اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ


ماہِ رجب میں دعا کی قبولیت

    حضرت سیِّدُناعبدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا ارشادفرماتے ہیں:میں امیرُالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے پاس تھا اورآپ لوگوں کو ان کے کوائف دکھارہے تھے۔ اسی دوران آپ کےقریب سے ایک ایسا بوڑھا آدمی گزرا جو اندھا اور لنگڑا تھا، اس کے آگے آگے ایک اور آدمی چل رہا تھا جو اس لنگڑے نابینا کو سختی سے گھسیٹتا ہوا لےجارہا تھا۔حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نےیہ منظر دیکھ کر ارشاد فرمایا :میں نے اتنا بُرا منظر آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

            آپ کے پاس بیٹھے لوگوں میں سے ایک نے کہا:اے امیرُالمومنین کیا آپ اِسے جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔اس نے کہا:یہ اِبْنِ صَبْغاء ہے، جس پر ”برِیْق“ کی پھٹکار پڑی ہے۔حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہنے فرمایا: برِیْق تو اُن کا لقب ہے مگر اُن کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کا نام”عِیاض“ہے۔ فرمایا:عِیاض کومیرے پاس لاؤ۔ جب وہ آئے تو آپ نے اُن سے فرمایا:مجھے اپنا اور بنوصَبْغاء کا واقعہ تو سُناؤ۔اُنہوں نے عرض کی: اے امیرُالمومنین! یہ زمانَۂ جاہلیت کا معاملہ ہے جس کا قصّہ ختم ہوچکا ہے،اب تو اللہ پاک نے اسلام طلوع فرما دیا ہے۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: اللہ کریم معاف فرمائے، جب سے اللہ پاک نے ہمیں دینِ اسلام کے ذریعے عزّت عطا فرمائی ہے تب سے ہمیں یہ زیب تو نہیں دیتا کہ ہم زمانَۂ جاہلیت کے کسی معاملے کے بارے میں گفتگو کریں تاہم تم اپنا اور بنو صَبْغاء کا (عبرت انگیز )واقعہ بیان کرو۔ عیاض نے واقعہ سناتے ہوئے عرض کی: اے امیرالمومنین! صَبْغاء کے دس(10) بیٹے تھے اور میں اُن کا چچا زاد بھائی تھا،میرے بھائیوں میں سے میرے علاوہ کوئی باقی نہیں رہا تھا۔میں اپنے چچا زاد بھائیوں کے پڑوس میں رہتا تھا، میری پوری قوم میں وہی میرے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے۔وہ مجھ پرظلم و ستم کیا کرتے اور میرا مال ناحق چھین لیتے تھے، میں انہیں خدا کا خوف دلاتا، رشتہ داری اور ہمسائیگی کے واسطے دیتا کہ مجھ سے ظلم کا ہاتھ روک لو مگریہ واسطے دینا بھی مجھے ان کے ظُلم سے نہ بچا سکا، چنانچہ میں نے اُنہیں اُن کی حالت پر چھوڑ دیا،حتی کہ جب حُرمت(یعنی عظمت وپاکیزگی)والا مہینا (رجب)(
[1]
)آیا تو میں نے آسمان کی طرف ہاتھاٹھا کر اُن کے لئے بد دُعا کی:

       ”اے اللہ! میں دل کی گہرائی سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو ایک کے علاوہ صَبْغاء کے سارے بیٹوں کو ہلاک فرما دے اور اُس ایک کو لنگڑا اور اندھا کر دے اور کوئی ایسا شخص ہو جو اسے سختی سے کھینچتا پھرے۔“چنانچہ اُسی سال ایک ایک کر کےاُن میں سے 9 افراد مرگئے اور یہ ایک باقی بچا تھا جو اندھا ہوگیا،اس کی ٹانگیں بھی مفلوج ہوگئیں، جیساکہ آپ دیکھ رہے ہیں اور اسے لانے لے جانےوالاجس سختی سے اسے گھسیٹ کر لاتا، لے جاتا ہےوہ بھی آپ نے دیکھ ہی لیا ۔ حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: بے شک یہ بہت ہی عجیب واقعہ ہے۔(
[2]
)

       پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اس وا قعے میں دوسروں پرظلم و ستم کرنے والوں کیلئے عبرت ہی عبرت ہے،لوگوں پر بلاوجہ رُعب جمانے اور اپنی قوّتِ بازو آزمانے والوں کو چاہئے کہ مظلوم کی آہ سے ڈریں،کسی منصب سے ناجائز فائدہ اُٹھا کرغریبوں،کمزوروں کو ڈرانے دھمکانے اورظلم وستم کرنے والوں کے لیے بھی یہ عبرت کا مقام ہے، کیونکہ جب مظلوم ظالم کے خلاف بارگاہِ الٰہی میں فریاد کرتا ہے تو اس کی فر یاد سُنی جاتی ہے اور ظالم کو انجام تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ 

 
[1]
   تاريخ ابن عساکر،45/ 81 

[2]
   کتاب البر و الصلۃ لابن جوزی،الباب الثلاثون فی ثواب صلۃ الرحم ۔۔۔الخ ،ص167




حدیثِ پاک میں ہے: اِتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّھَا لَیْسَ بَیْنَھَا وَ بَیْنَ اللہِ حِجَابٌ یعنی مظلوم کی بد دُعا سے بچو !بے شک اس کی بد دُعا اور اللہ پاک کے درمیان کوئی رُکاوٹ نہیں۔
[1]
 آئیے سب مل کر دعاکرتےہیں:

‫ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسطے اُٹھیں بچانا ظلم و ستم سے مجھے سدا یارب

رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دم کریں نہ رخ مِرے پاؤں گناہ کا یارب

                                          (وسائل بخشش مرمم،ص۷۶،۷۷)

       بیان کردہ واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رَجَبُ الْمُرَجَّب کا مہینا دُعائیں قبول ہونےمیں بڑی اہمیت کا حامل ہے جیسا کہ تاریخ ابنِ عساکِر کی ایک طویل روایت میں ہے: زمانَۂ جاہلیت میں بھی لوگ اس مہینے کی تعظیم کیا کرتے،اپنے اوپر کئے گئے ظلم کے خلاف کوئی بددُعا وغیرہ نہ کرتے لیکن جب رَجَبُ الْمُرَجَّب کا مہینا آتا تو ظالم کے خلاف دُعا کرتےتو ان کی دُعا قبول ہو جاتی۔
[2]


            حضرت امام زَکَریّا قَزوِینیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ اور شارحِ بخاری حضرت سیِّدُنا امام قَسطلانی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ بیان فرماتے ہیں کہ کثیر احادیثِ مبارکہ ماہِ رجب کی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہیں اس میں عبادتیں قبول اور دُعائیں مُسْتجاب ہوتی ہیں،زمانَۂ جاہلیت میں کوئی مظلوم شخص اگر ظالم کیلئے بد دُعا کرنا چاہتا تو اپنا ارادہ ماہِ رجب تک مؤخّر کردیتا


[1]
   بخاری، کتاب المظالم و الغصب، باب الاتقاء و الحذر۔۔۔الخ،2/128،حدیث:2448 

[2]
   تاريخ ابن عساکر،45/81



اور رجب کے آنے پر ظالم کے خلاف دعا کرتا تو وہ دُعا قبول ہو جایا کرتی تھی ۔(
[1]

دُعاؤں کی قبولیت کیلئے 5 اہم راتیں:

       پیارے پیارے اسلامی بھائیو!دُعا کی قبولیت میں 5 راتوں کو بہت اہمیت حاصل ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن عمررَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا فرماتے ہیں: پانچ (5) راتیں ایسی ہیں جس میں دُعا رَد نہیں کی جاتی:(1)جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات (2) رجَب کی پہلی(یعنی چاند)رات (3)پندرہ(15) شعبان کی رات(یعنی شبِ براءَ ت) (4) عیدُالفطر کی (چاند )رات (5)عیدُالْاَضْحٰی کی (یعنی ذُوالْحِجّہ کی دسویں )رات ۔(
[2]

یاالٰہی جو دُعائے نیک میں تجھ سے کروں قُدسیوں کے لب سے آمیں رَبَّنَا کا ساتھ ہو

                                                                        (حدائقِ بخشش، ۱۳۳)


[1]
   عجائب المخلوقات،ص69۔لوامع الانوار،الباب الثالث۔۔۔الخ،الدعاء فی شہر رجب، ص260 مفہوماً

[2]
   مصنف عبدالرزاق،کتاب الصیام،باب النصف من شعبان،4/246،حدیث: 7957۔لوامع الانوار، الباب الثالث فی اذکار۔۔۔الخ،الدعاء فی شہر رجب، ص 259بتقدم و تاخر 

Comments

Popular posts from this blog

نماز میں سورت جھوڑ کر پڑھنا کیسا ہے؟ नमाज़ में सूरत छोड़कर पढ़ना कैसा है?

نماز میں قرآن الٹا پڑھنا کیسا ہے؟. नमाज़ में क़ुरआ़न को उल्टा पढ़ना कैसा है?